خروج 3
مقدس کتاب
1اور موسیٰ اپنے سُسر یترون کاہنِ مِدیان کی بھیڑ بکریاں چَرایا کرتا تھا۔ ایک دن وہ ریوڑ کو بیابان کے پار ہانک لے گیا اور خدا کے پہاڑ حورب تک جا پہنچا۔
2وہاں خداوند کا فرشتہ ایک جھاڑی کے بیچ آگ کے شعلے میں اُس پر ظاہر ہوا۔ اُس نے نگاہ کی تو دیکھا کہ جھاڑی آگ سے جل رہی ہے پر بھسم نہیں ہوتی۔
3موسیٰ نے کہا میں ذرا جا کر یہ عجیب منظر دیکھوں کہ جھاڑی کیوں نہیں جلتی۔
4جب خداوند نے دیکھا کہ وہ دیکھنے کے لیے مُڑا تو خدا نے جھاڑی میں سے اُسے پکارا اور کہا موسیٰ! موسیٰ! اُس نے کہا میں حاضر ہوں۔
5اُس نے کہا اِدھر نزدیک نہ آ۔ اپنے پاؤں سے جوتی اُتار ڈال کیونکہ جس جگہ تُو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے۔
6پھر اُس نے کہا میں تیرے باپ کا خدا، ابراہام کا خدا، اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔ تب موسیٰ نے اپنا مُنہ چھپا لیا کیونکہ وہ خدا کو دیکھنے سے ڈرتا تھا۔
7خداوند نے کہا میں نے اپنی قوم کی مصیبت جو مصر میں ہے خوب دیکھی اور اُن کی فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سُنی ہے کیونکہ میں اُن کے دُکھوں سے واقف ہوں۔
8اور میں اُتر آیا ہوں تاکہ اُنہیں مصریوں کے ہاتھ سے چھڑاؤں اور اُس ملک سے نکال کر ایک اچھے اور وسیع ملک میں پہنچاؤں جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے۔
9اور اب دیکھ بنی اسرائیل کی فریاد میرے پاس پہنچی ہے اور وہ ظلم بھی جو مصری اُن پر کرتے ہیں میں نے دیکھا ہے۔
10سو اب آ میں تجھے فرعون کے پاس بھیجوں تاکہ تُو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے۔
11موسیٰ نے خدا سے کہا میں کون ہوں کہ فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں؟
12اُس نے کہا میں یقیناً تیرے ساتھ ہوں گا اور تیرے لیے یہ نشان ہوگا کہ میں نے ہی تجھے بھیجا ہے: جب تُو قوم کو مصر سے نکال لائے گا تو تم اِسی پہاڑ پر خدا کی عبادت کرو گے۔
13موسیٰ نے خدا سے کہا اگر میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھ سے پوچھیں کہ اُس کا نام کیا ہے تو میں اُن سے کیا کہوں؟
14خدا نے موسیٰ سے کہا میں ہوں جو میں ہوں۔ پھر کہا بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
15خدا نے پھر موسیٰ سے کہا بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خداوند تمہارے باپ دادا کے خدا نے، یعنی ابراہام کے خدا، اضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہی ہمیشہ کے لیے میرا نام اور پُشت در پُشت میری یادگار ہے۔
16جا اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کو جمع کر کے اُن سے کہہ کہ خداوند تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھ پر ظاہر ہو کر کہا ہے کہ میں نے تم پر اور جو کچھ تم سے مصر میں ہوا اُس پر نظر کی ہے۔
17اور میں نے کہا ہے کہ میں تم کو مصر کے دُکھ سے نکال کر کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فرِزّیوں، حِوّیوں اور یبوسیوں کے ملک میں پہنچاؤں گا جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے۔
18اور وہ تیری بات مانیں گے، اور تُو اور بنی اسرائیل کے بزرگ مصر کے بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے کہنا کہ خداوند عبرانیوں کے خدا نے ہم سے ملاقات کی ہے، سو اب ہمیں تین دن کی راہ بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے لیے قربانی چڑھائیں۔
19اور میں جانتا ہوں کہ مصر کا بادشاہ تمہیں جانے نہ دے گا، ہاں زورآور ہاتھ کے بغیر بھی نہیں۔
20سو میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اور مصر کو اپنے سب عجیب کاموں سے مارُوں گا جو میں اُس کے بیچ کروں گا۔ اِس کے بعد وہ تمہیں جانے دے گا۔
21اور میں اِس قوم کو مصریوں کی نظر میں مقبول کروں گا، سو ایسا ہوگا کہ جب تم روانہ ہو گے تو خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے۔
22بلکہ ہر عورت اپنی پڑوسن اور اپنے گھر میں رہنے والی مہمان عورت سے چاندی اور سونے کے زیور اور کپڑے مانگے گی، اور تم اپنے بیٹے بیٹیوں کو اُن سے آراستہ کرو گے۔ یوں تم مصریوں کو لُوٹو گے۔
تفسیر
۳۔ موسیٰ کی بلاہٹ
موسیٰ اپنے سسر یترون کی بھیڑ بکریاں چَرا رہا تھا کہ وہ خدا کے پہاڑ حورب تک جا نکلا۔ وہاں خداوند کا فرشتہ ایک جھاڑی کے شعلے میں اُس پر ظاہر ہوا۔ موسیٰ نے دیکھا کہ جھاڑی جل رہی ہے مگر بھسم نہیں ہوتی، اور یہ منظر اسے حیران کر گیا۔ جب وہ قریب آ کر دیکھنے لگا تو خدا نے جھاڑی میں سے اُسے پکارا۔
مقدس زمین
خدا نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی جوتیاں اتار دے کیونکہ جس جگہ وہ کھڑا تھا وہ مقدس زمین تھی۔ پھر اس نے اپنا تعارف ابراہیم، اضحاق اور یعقوب کے خدا کے طور پر کرایا — یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہی خدا اپنے عہد کو نسل در نسل قائم رکھتا ہے۔
بنی اسرائیل کی رہائی کا وعدہ
خداوند نے اپنی قوم کی مصیبت پر توجہ دی اور موسیٰ کو فرعون کے پاس بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکال کر ایک اچھی اور وسیع سرزمین میں لے جائے۔ موسیٰ کے تامل کے باوجود خدا نے اسے یقین دلایا کہ وہ خود اس کے ساتھ ہوگا۔
میں ہوں جو میں ہوں
موسیٰ کے استفسار پر خدا نے اپنا ذاتی نام "یہوواہ" (میں ہوں جو میں ہوں) ظاہر کیا۔ کول اور جے اوسوالڈ سانڈرز جیسے مفسرین کے مطابق یہ نام خدا کی ازلی، غیر متغیر اور خود مختار ہستی کو بیان کرتا ہے — وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔